30/05/2022

یہ دنیا ہماری تو بس اک سفر ہے

 

یہ دنیا ہماری تو بس اک سفر ہے

سفر کرنے والوں کی منزل قبر ہے

بظاہر تو مٹی ہے مدفن ہمارا
مگر نار یا نور ہی ہے سراپا
عمل پر ہے ہمارے قبر کا نقشہ
ہے جنت کی کھڑکی یا بچھو کا گھر ہے

غضب سے ہے زیادہ میرے رب کی رحمت
مگر اپنے دل میں نہیں خوف و عبرت
کبھی نیکیوں میں نہیں کرتے سبقت
گناہوں کی عادت ہمیں کس قدر ہے

اندھیروں میں بھٹکی ہے یوں میری ہستی
گناہوں میں لذت عبادت میں سستی
ختم کر دے مولا میری سیاہ بختی
تو ہی رہنما اور تو ہی چارہ گر ہے

تہجد اور اذکار سے روح تر ہو
تلاوت سے روشن یہ شام و سحر ہو
نہ تاریک شب کا ہمیں کوئی ڈر ہو
چراغِ محبت جو دل میں اگر ہے

بھڑکتی ہوئی آگ کو دور کر دے
میرے مولا میری قبر نور کر دے
میرے دل میں روشن وہی طور کر دے
میری روح جس کے لئے منتظر ہے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...