20/01/2025

Kafi Hai Mujhe Bas

کافی ہے مجھے بس وہ کمائی تیرے در کی
جو دھول ملے کرکے صفائی تیرے در کی

دھو دھو کے پلاؤں گا پیو آبِ شفا ہے
ہر روز کروں آکے دھلائی تیرے در کی

زم زم میں ملا کر میں اسی آبِ شفا کو
ہر مرض میں دوں گا یہ دوائی تیرے در کی

سلطانوں کا سلطاں ہو یا سلطانِ زمانہ
مفلس ہے اگر بھیک نہ پائی تیرے در کی

دل نے کہا سینے سے لگا لے اسے بڑھ کر
جس نے بھی کوئی بات سنائی تیرے در کی

دنیا میں حسؔن اور کئی عز و شرف تھے
ماتھے پہ غلامی ہے سجائی تیرے در کی

 

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...