21/07/2024

Rukh E Mustafa Ko Dekha

رخِ مصطفےٰﷺ کو دیکھا تو دیوں نے جلنا سیکھا
یہ کرم ہے مصطفیٰﷺ کا شب غم میں ڈھلنا سیکھا

یہ زمیں رکی ہوئی تھی یہ فلک تھما ہوا تھا
چلے جب میرے محمدﷺ تو جہاں نےچلنا سیکھا

بڑا خوش نصیب ہوں میں میری خوش نصیبی دیکھو
شاہ انبیاء کے ٹکڑوں پہ ہے میں نے پلنا سیکھا

میں گرا نہیں جو اب تک یہ کمال مصطفےٰ ہے
میری ذات نے نبیﷺ سے ہے سدا سنبھلنا سیکھا

میرا دل بڑا ہی بے حس تھا کبھی نہیں یہ تڑپا
سنی نعت جب نبیﷺ کی تو یہ دل مچلنا سیکھا

میں تلاش میں تھا رب کی کہاں ڈھونڈتا میں اس کو
لیا نام جب نبیﷺ کا تو خدا سے ملنا سیکھا

میں رہا خلش مظفؔر درِ پاک مصطفےٰ ﷺ پر
میرے جذبہ عاشقی نے کہاں گھر بدلنا سیکھا

 

15/07/2024

Allah Allah Woh Husain Mustafa Ka Noor E Ain

اللہﷻ اللہﷻ وہ حسین ، مصطفےٰ ﷺ کا نورِ عین
سوئے کربل ہوا جو روانہ وہ ہے حضرت علی کا گھرانہ

سیدہ فاطمہ کے ہیں لخت جگر جن کے گھر کے ہیں دربان جن و بشر
کر دیے جن کے نانا نے ٹکڑے قمر جن کے بابا سے تھرّائے خیبر کا در
جن کی صورت ہے نورانی جن کی سیرت ہے قرآنی جن پہ قربان سارا زمانہ

دین کے قافلے کا وہ سالار ہے گھر کا گھر جو لٹانے کو تیار ہے
لب پہ قرآں ہے سر زیرِ تلوار ہے جنتی نوجوانوں کا سردار ہے
کتنا اعلیٰ ہے مقام ، وہ شہیدوں کے امام مالک خلد ہیں جن کا نانا

اپنے نانا کا وعدہ نبھانے چلا ظلم کی آندھیوں کو مٹانے چلا
دیکے سر ہاتھ اپنا بچانے چلا سجدے میں گر کے قرآں سنانے چلا
کیسی ہوگی اسکی شان جسکے نانا ہیں سلطان جس کی ہر ایک ادا فاتحانہ

عید کے دن حسین و حسن نے کہا امی جاں آج ہم دونوں پہنیں گے کیا
رو پڑی فاطمہ حکم رب کا ہوا جوڑے جنت سے لے کر کے جبریل جا 
باغِ جنت کے ہیں وہ پھول وہ نواسہ رسول کیسے پہنیں گے کپڑا پرانہ

لہلہائے نہ کیوں دین کا یہ چمن اس کو سینچے ہوئے شاہ ذوالمنن
پھر علی فاطمہ اور حسین و حسن وجہ تخلیقِ عالم ہیں یہ پنجتن
کتنا اعلی ہے گھر بار جس پہ دنیا ہے نثار جسکے قدموں تلے ہے زمانہ 

ہم حسینی ہیں جذبہ ہے میرا جواں میری رگ میں حسینی لہو ہے رواں
میری عزت پہ ظالم نہ دو دھمکیاں مجھے پہ خنجر چلے یا گرے بجلیاں
میں کروں گا یہ اعلان چاہے لے لو میری جان قدسیوں کا جہاں آنا جانا

 

Mujhe Kofa Walo

مجھے کوفہ والو مسافر نہ سمجھو
میں آیا نہیں ہوں بلایا گیا ہوں
میں مہماں بناکر ستایا گیا ہوں
میں رویا نہیں میں رُلایا گیا ہوں

خدا جانے کیسی ہے یہ میزبانی
بہتّر 72 پیاسوں کا ہے بند پانی
مقدر میں ہے حوضِ کوثر کا پینا
میں پیاسا نہیں ہوں پلایا گیا ہوں

نانا نبی ﷺ ہے ماں سیّدہ ہے
بابا علی ہے بھائی حسن ہے
میرے کوفہ والوں مراتب تو سمجھو
نبی ﷺ کا نواسہ بنایا گیا ہوں

ارے شمر سمجھو قیامت کا منظر
چلا نہ سکو گے گلے پہ یہ خنجر
یہ نہر فرات پہ پہرے ہیں تیرے
میں کوثر کا مالک بنایا گیا ہوں

جھکا تھا جو سر بارگاہِ خدا میں
وہ ہی سر قلم ہوگیا کربلا میں
شہادت کی منزل کو پایا ہے میں نے
میں مردہ نہیں ہوں جلایا گیا ہوں

خیمہ جلایا ساماں بھی لوٹا
غنچہ بھی ٹوٹا گلستاں بھی چھوٹا
بہشتِ بریں میں مکاں بن رہے ہیں
میں اجڑا نہیں ہوں بسایا گیا ہوں

 

14/07/2024

Husain Behtareen Hein

یزید بد ترین ہے ، حسین بہترین ہے

یہ قول صادقین ہے حسین بہترین ہے
یزید تو لعین ہے حسین بہترین ہے


حسین ابن مرتضٰی نواسہ شاہ دین کا
حسن ہے اس کا بھائی جان اور ماں ہیں فاطمہ
حسین شاہ کربلا حسین دیں کا رہنما
حسین خوش ترین ہے حسین بہترین ہے

یزید کا تو نام بھی زمانے بھر سے مٹ گیا
مگر جہاں میں گونجتا ہے نعرہ یا حسین کا
فقط زمین پر نہیں ، ہے عرش پر بھی تذکرہ
عقیدہ ہے یقین ہے ، حسین بہترین ہے

یزید سوچ سوچ کر اسی الم میں مرگیا
کہ سر تو مل گیا ہمیں مگر نہ ساتھ مل سکا
جہاں میں جس سے پوچھیے یہی کہے گا برملا
یزید بدترین ہے ، حسین بہترین ہے

جوان لاڈلا حسین کا لہولہان ہے
اور اک طرف پڑا ہے لاڈلا جو بے زبان ہے
مگر زبان پر ثنائے خالق جہان ہے
وہ شاہ صابرین ، حسین بہترین ہے

حسین دین بھی ہے اور ہے دین کی پناہ بھی
حسین شاہ بھی ہے اور حسین بادشاہ بھی
ہے سب کا اس پہ اتفاق ، مانتا ہے ہر کوئی
یہ فقرۂ معین ہے ، حسین بہترین ہے

گلے پہ لے رہے ہیں بوسہ تاجدارِ انبیاء 
سنا کے جس کو لوریاں سلا رہی ہیں سیدہ
وہ ہم شبیہہِ مصطفی جہاں میں سب سے ہے جدا
حَسِین و مہ جبین ہے حسین بہترین ہے

وہ نورِ چشمِ مرتضیٰ وہ لاڈلا بتول کا
زمین و آسمان میں کوئی نہیں حسین سا
زبانِ اہل حق سے ہم نے تو سنی ہے یہ صدا
حسین ہی مبین ہے حسین بہترین ہے

رضائے رب کے واسطے ہےگھر کا گھر لٹا گیا
کیا تھا وعدہ بچپنے میں جو اسے نبھا گیا
نثار ہو کے دین پر جو سارے جگ پہ چھا گیا
وہ دین کا معین ہے حسین بہترین ہے

جو نوکِ نیزہ پر پیام حق ہمیں سنا گیا
یزیدیت کو حشر تک جہان سے مٹا گیا
وہ کون ہے جو خلد کا ہے راستہ بتا گیا
وہ خلد کا مکین ہے حسین بہترین ہے

نبی نے جس کے واسطے طویل سجدہ کردیا
نبی نے جس کے واسطے ہے خطبہ مختصر کیا
وہ انتخاب کبریا سراپا ہے جو حق نما
حسین شاہ دین ہے حسین بہترین ہے 

چلا جو رن میں لے کے ذوالفقار ابن مرتضٰی
یزیدیت میں یوں لگا کہ آگیا ہے زلزلہ
کسی کی کیا مجال ہے کرے جو اس کا سامنا
گواہ سر زمین ہے ، حسین بہترین ہے

حسین جان فاطمہ حسین شان حیدری
حسین وہ ہے جس کی مدح کرتے ہیں مرے نبی
میں اسکی شان کیا لکھوں بھلا اے شوق قادری
حُسِین تو حَسِین ہے، حسین بہترین ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ازقلم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد شوقین نواز شوق فریدی 
خانقاہ قادریہ فریدیہ جوگیا شریف بہار : اانڈی

 

11/07/2024

Qadam Zahra Ke Bacchon Ka

میرے دل کی زمیں پر ہے قدم زہرہ کے بچوں کا
میری نسلوں پے ہیں دستِ کرم زہرہ کے بچوں کا

زمانے کا کوئی بھی رنج اسے رسوا نہیں کرتا
سکونت پالے جس سینے میں غم زہرہ کے بچوں کا

ہزاروں کوششیں کرلی زمانے نے جھکانے کی
مجھے جھکنے نہیں دیتا بھرم زہرہ کے بچوں کا

نبی کے دین کی خاطر کیے قرباں بہتر 72 سر
بھلائیں کس طرح احسان ہم زہرہ کے بچوں کا

ہزاروں دیدہ ور صدقے زمینِ کربلا تجھ پر
تیری نظروں نے دیکھا ہے عظم زہرہ کے بچوں کا

خدا کے فضل سے اذنِ زیارت کا شرف پایا
زہِ قسمت میں دیکھ آیا حرم زہرہ کے بچوں کا

گلستانِ پیمبر کا ہر اک گُل ہے گلِ تنویر
مماثل ہی نہیں رب کی قسم زہرہ کے بچوں کا

 

06/07/2024

Mera Umar Hai

میرا مرشد میرا مولا عمر عمر عمر
میرا دلبر میرا رہبر عمر عمر عمر

نبیﷺ نے جس کو خدا سے مانگا
میرا عمر ہے میرا عمر ہے
زمانے بھر میں ہے جس کا چرچا
میرا عمر ہے میرا عمر ہے

وہ جس کی ہیبت سے کانپتا ہے
ہر ایک شیطاں ہر اک منافق
وہ کفر کا جس نے قلعہ ڈھایا
میرا عمر ہے میرا عمر ہے

کہا نبیﷺ نے جو کوئی ہوتا
نیا نبی تو عمر ہی ہوتا
وہ جس کا ثانی ہوا نہ پیدا
میرا عمر ہے میرا عمر ہے

جنابِ صدّیق سب سے افضل
ہے مصطفیٰﷺ کے صحابیوں میں
ہے بعدِ صدیق جس کا رتبہ
میرا عمر ہے میرا عمر ہے

وہ جس کی مرضی کے بھی مطابق
خدا نے آیات ہے اتاری
وہ ترجمانِ نبیﷺ جو ٹھہرا
میرا عمر ہے میرا عمر ہے

اے سیؔفِ خستہ زمانے بھر کو
شرابِ عشقِ نبی ﷺ پلا کر
نبیﷺ کے پہلو میں ہے جو سویا
میرا عمر ہے میرا عمر ہے

 

01/07/2024

Jahan Roza e pak

جہاں روضۂ پاک خیر الوریٰ ہے، وہ جنت نہیں ہے ، تو پھر اور کیا ہے
کہاں میں کہاں یہ مدینے کی گلیاں، یہ قسمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے

محمدﷺ کی عظمت کو کیا پوچھتے ہو، کہ وہ صاحبِ قاب قوسین ٹھہرے
بشر کی سرِ عرش مہماں نوازی ، یہ عظمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے

جو عاصی کو دامن میں اپنے چھپا لے ، جو دشمن کو بھی زخم کھا کر دعا دے
اسے اور کیا نام دے گا زمانہ ، وہ رحمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے

شفاعت قیامت کی تابع نہیں ہے ، یہ چشمہ تو روز ازل سے ہے جاری
خطا کار بندوں پہ لطف مسلسل ، شفاعت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے

قیامت کا اک دن معین ہے لیکن ، ہمارے لیے ہر نفس ہے قیامت
مدینے سے ہم جاں نثاروں کی دوری ، قیامت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے

تم اقؔبال یہ نعت کہہ تو رہے ہو مگر ، یہ بھی سوچا کہ کیا کر رہے ہو
کہاں تم کہاں مدح ممدوحِ یزداں ، یہ جرأت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے

 

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...